Thursday, August 29, 2019

احادیث صحیہ کے صحاح ستہ میں منحصر ہونے کا منصفانہ جائزہ


مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما
ایک طویل زمانے سے کچھ لوگ جیسے وہابی وغیرہ سنی حضرات سے بحث و مباحثہ کے درمیان دلیل کے طور پر کتب ستہ یا بلفظ دیگر صحاح ستہ کی حدیث کا مطالبہ کرتے ہیں، ان میں سے کچھ تعصب میں اس قدر ڈوبے ہوتے ہیں کہ سنن اربعہ کو چھوڑ کر صرف صحیحین ہی کی حدیث کا مطالبہ کرتے ہیںاور بعض تو ان سے بھی دس قدم آگے ہوتے ہیں اور صرف صحیح البخاری کی حدیث کو ہی بطور دلیل قبول کرنے پر اڑے رہتے ہیں، اگر انہیں کتب ستہ یا صحیحین یا صحیح البخاری کے علاوہ کتب متون سے دلیل دی جائے؛ تو انہیں بڑی تکلیف ہوتی ہے اور کسی طرح بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے گویا کہ ساری صحیح احادیث انہیں کتب متون میں محدود ہیں، ان کے علاوہ دوسری کتابوں میں صحیح حدیث پائی ہی نہیں جاتی، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جب اپنا معاملہ ہوتا ہے؛ تو یہ ناعاقبت اندیش اپنی حد بندی بھول جاتے ہیں یا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں، مثال کے طور پر نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنے والی ضعیف حدیث ہی لے لیجئے، یہ حدیث صحیح البخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں بھی موجود نہیں بلکہ صحیح ابن خزیمہ میں پائی جاتی ہے، مگر جب اپنے موقف پر استدلال کرنا ہوتا ہے؛ تو بے دھڑک صحیح ابن خزیمہ کی حدیث کو بطور استدلال پیش کردیتے ہیں اور اپنی ہی حد بندی سے خروج کرنے میں ذرا بھی شرم و عار محسوس نہیں کرتے! اور کچھ تو مسلم عوام کو گمراہ کرنے کے لیے یہ کہ بیٹھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے، جب کہ یہ حدیث صحیحین کیا سنن اربعہ میں بھی موجود نہیں! ایک مرتبہ ایک سنی شخص نے میرے پاس فون کیا اور کہا کہ ایک سنی شخص حرمین طیبین چلا گیا اور وہاں جاکر وہابیوں کی وجہ سے اس کی فکر بدل گئی، کہتا ہے کہ نماز میں ہاتھ سینے پر رکھنا چاہیے اور بطور دلیل یہ کہتا ہے کہ یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے، میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیحین تو صحیحین سنن اربعہ میں بھی موجود نہیں، مگر یہ فون کرنے والے صاحب بھی اتنا مرعوب ہوچکے تھے کہ وہ میری بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہورہے تھے اور کہے جارہے تھے کہ وہ صحیح البخاری و مسلم کا حوالہ دے رہا ہے! پھر میں نے ان سے کہا کہ ایسا کریئے اگر آپ کو اطمینان نہیں ہے؛ تو ان سے کتاب، باب، ج،ص اور حدیث نمبر پوچھ لیجئے، ان شاء اللہ میں آپ کو اس شخص اور اس کو تربیت دینے والے کی کذب بیانی واضح کرتا ہوں، مگر اس کے بعد ابھی تک دوبارہ کوئی فون نہیں آیا، خیر اس طرح سے یہ یا تو اپنی حد بندی اپنے لیے بھلادیتے ہیں اور اسے سنیوں کے لیے ہی خاص رکھتے ہیں یا پھر عوام کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں، سنیوں پر لازم ہے کہ وہ ان سے دور رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں اور اپنے سنی علما کے بتائے ہوئے طریقہ پر ہی چلیں، جامعہ ازہر، مصر میں تعلیم کے دوران ہی سے اس موضوع پر شدت سے لکھنے کی ضرورت محسوس کر رہا تھا مگر توفیق نہ مل سکی، جامعہ ازہر، مصر سے آنے کے بعد بھی کچھ دوسرے موضوعات کی طرف ذہن چلا گیا؛ جس کی وجہ سے یہ موضوع زیر تحریر نہیں آسکا، شاید کہتے ہیں کہ دیر آید درست آید، بہر کیف اب اللہ جل شانہ نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقہ میں توفیق عطا فرمائی؛ تو اب لکھ رہا ہوں، و ما توفیقی إلا باللہ علیہ توکلت و إلیہ أنیب۔
صحیح احادیث صرف صحیح البخاری یا صحیحین یا کتب ستہ میں منحصر!
            صحیح احادیث صرف صحیح البخاری یا صحیحین یا کتب ستہ میں منحصر نہیں، جو انحصار کا قائل ہے یا صرف انہیں کتابوں کی صحیح احادیث بطور دلیل قبول کرتا ہے یا انہیں کتابوں سے صحیح احادیث کا مطالبہ کرتا ہے، وہ کج فہمی، انانیت اور جہالت کا شکار ہے، ملاحظہ فرمائیں:
            امام ابن صلاح رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’امام بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے اپنی کتابوں میں صحیح احادیث کا احاطہ نہیں کیا اور نہ ہی آپ حضرات نے صحیح احادیث کے احاطہ کرنے کا التزام کیا، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ’الجامع‘ میں صحیح حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث شامل نہیں کی اور طوالت کے خوف سے دوسری صحیح احادیث چھوڑ دی‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، صالنوع الأول معرفۃ الصحیح، ص۱۰، ط: دار زاہد القدسی)
            اگر امام بخاری رحمہ اللہ کے صرف اسی قول کو پیش نظر رکھا جائے؛ تو صحیح احادیث کو صرف صحیح البخاری میں محصور کرنے کی کوشش کرنا یاصرف اسی کی حدیث کا مطالبہ کرنا بہت بڑی جہالت اور بہت ہی مذموم حرکت سمجھی جانی چاہیے؛ کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے خود وضاحت فرمادی کہ ہم نے بہت ساری صحیح احادیث طوالت کے خوف سے چھوڑ دی۔
            نیز امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مجھے ایک لاکھ (۱۰۰۰۰۰) صحیح احادیث اور دو لاکھ (۲۰۰۰۰۰) غیر صحیح احادیث یاد ہیں‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، صالنوع الأول معرفۃ الصحیح، ص۱۰، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص ۳۹۲، ط: المکتبۃ التوفیقیۃ، مصر)
            اگر وہابیوں کی طرح امام بخاری رحمہ اللہ کے صرف اس دوسرے قول کو اپنے ظاہری معنی پر محمول کرکے دیکھا جائے؛تو ان کا صحیح احادیث کو صرف صحیحین یا صرف کتب ستہ میں منحصرکرنے کی سعی نا مسعود کرنا یا صحیح احادیث کو صرف انہی کتابوں سے مانگنا جرم عظیم سمجھا جانا چاہیے؛ کیوں کہ فربری کی روایت کے مطابق صحیح البخاری کی تعداد مکرر کے ساتھ صرف سات ہزار دو سو پچہتر (۷۲۷۵) اور بلا مکرر چار ہز۔ار (۴۰۰۰) احادیث ہیں ، نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے جو یہ فرمایا: ’’اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں‘‘ اس سے یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی جائے کہ یہ دو لاکھ احادیث غیر صحیح یعنی صرف ضعیف اور موضوع تھیں جیسا کہ بعض متشددین سمجھتے ہیں؛ کیوں غیر صحیح کا دامن بہت وسیع ہے، ضعیف وغیرہ کے علاوہ اس کے دائرے میں حدیث حسن بھی آتی ہے، امام ابن صلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’اسی طرح جب کسی حدیث کے بارے ناقدین فرمائیں: یہ حدیث صحیح نہیں؛ تو یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ قطعی طور سے نفس الامر میں وہ حدیث جھوٹی ہے؛ کیوں کہ کبھی نفس الامر میں صحیح بھی ہوسکتی ہے؛ اس لیے ان کی مراد اس قول سے یہ ہے کہ اس کی حدیث کی اسناد شرط مذکور کے مطابق صحیحؤ نہیں‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع الأول معرفۃ الصحیح، ص۸) امام بخاری رحمہ اللہ کے اس دوسرے قول کی وضاحت ان شاء اللہ آگے آتی ہے۔
            امام ابن الملقن شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اور ہر غیر صحیح حدیث قابل احتجاج نہ ہو، ایسا نہیں ہے؛ کیوں کہ حدیث حسن بھی غیر صحیح ہے مگر وہ قابل استدلال و احتجاج ہے‘‘۔ (المقنع فی علوم الحدیث، ابن الملقن رحمہ اللہ، ج۱ص۸۹، ط: دار فواز، سعودیہ)
            امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہر وہ حدیث جو صحیح ہے، اسے میں نے یہاں اس کتاب میں ذکر نہیں کیا بلکہ میں نے یہاں اسی صحیح حدیث کو ذکر کیا ہے جومجمع علیہ شرائط صحیح کی جامع ہے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب التشھد فی الصلاۃ، ج۱ص۳۰۴، رقم:۴۰۴، مقدمۃ ابن الصلاح، النوع الأول معرفۃ الصحیح، ص۱۰، ط: دار زاہد القدسی، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص۳۹۲)
            امام ابن صلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں انہی احادیث کو رکھا ہے جن میں ان کے نزدیک صحیح مجمع علیہ کی شرائط پائی گئی اگر چہ ان میں سے بعض احادیث میں بعض کے نزدیک وہ شرائط نہیں پائی گئیں‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع الأول معرفۃ الصحیح، ص۱۰، حاشیۃ الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص۳۹۳)
            امام مسلم رحمہ اللہ ہی سے مروی ہے کہ جب ایک کتاب میں صحیح احادیث جمع کرنے کی وجہ سے ان پر عتاب کرتے ہوئے کہا گیا: آپ کا یہ عمل اہل بدعت کے لیے ہم اہل سنت و جماعت کے خلاف راستہ ہموار کردے گا اور جب ان کے خلاف کسی حدیث کے ذریعہ استدلال کیا جاے گا؛ تو وہ کہیں گے: یہ حدیث صحیح میں نہیں ہے؛ تو امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں نے یہ کہا ہے کہ اس کی احادیث صحاح ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ اس کتاب میں جس حدیث کی میں نے تخریج نہیں کی وہ ضعیف ہے‘‘۔ (توجیہ النظر إلی أصول الأثر، طاہر بن صالح دمشقی، ج۱ص۲۲۶، ط: مکتبۃ المطبوعات الاسلامیۃ، حلب، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص ۳۹۲-۳۹۳)
            امام مسلم رحمہ اللہ نے جب اپنی حدیث کی کتاب تصنیف فرمائی؛ تو بعض حساس علما نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ طریقہ کار اہل بدعت کو دسیسہ کاری کرنے کا مزید موقع فراہم کرے گا؛ کیوں کہ جب ان سے کہا جاے گا کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ تو وہ کہیں گے کہ یہ حدیث صحیح میں نہیں ہے، تنقید جب بجا ہو اور دل تنگ ہونے کے بجائے علم نور سے روشن و کشادہ ہو؛ تو تنقید بہر حال مفید ثابت ہوتی ہے، امام مسلم رحمہ اللہ نے ان کی اس تنقید کو برا نہ مانا اور ایک عقلمندانہ جواب دے کر اہل بدعت کی پشت پر آخری کیل ٹھوک دی اور فرمایا: میںنے یہ کہا ہے کہ اس کتاب کی احادیث صحیح ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ صرف اسی کتاب کی احادیث صحیح ہیں، باقی دوسری احادیث ضعیف ہیں؛ اس لیے جو بھی پڑھا لکھا شخص میرے قول کو مد نظر رکھے گا وہ کبھی نہیں کہے گا کہ اس کتاب کی احادیث کے علاوہ ساری احادیث ضعیف ہیں۔
            امام ابوزہو رحمہ اللہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے ان اقوال کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ان باتوں سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوکر سامنے آئیں:
            پہلی بات: امام دار قطنی، بیہقی اور ابن حبان علیہم الرحمۃ نے تنقید کرتے ہوئے یہ کہنے کی کوشش کی کہ جب امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے مختلف شروط کے ساتھ اپنی کتابوں میں صحیح احادیث تخریج کرنے کا التزام کیا؛ تو ان پر لازم تھا کہ ان کی شروط پر موجود دوسری احادیث کو ترک کرنے کے بجائے انہیں بھی اپنی کتاب میں جگہ دیتے۔امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ پر اس جہت سے نقد کرنا جائز ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بہت ساری ایسی احادیث کو جگہ نہیں دی جو احادیث خو د ان کے شرط کے مطابق تھیں‘‘۔
            امام بیہقی رحمہ اللہ وغیرہ نے ذکر کیا:
            ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے احادیث روایت کیں اور ان کی یہ احادیث ایسے طرق سے مروی ہیں جن کے نقل کرنے والوں میں کوئی طعن و تشنیع نہیں، اس کے باوجود ان دونوں حضرات نے ان کی کوئی حدیث اپنی کتاب میں تخریج نہیں کی، حالاں کہ ان دونوں کے طریقہ کار کے مطابق ان کی احادیث کا تخریج کرنا لازم تھا‘‘۔امام بیہقی رحمہ اللہ مزید ذکر کرتے ہیں: ’’شیخین کا ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کے صحیفہ سے احادیث تخریج کرنے پر اتفاق ہے اور ہر ایک اس صحیفہ میں سے کچھ احادیث روایت کرنے میں دوسرے سے منفرد ہے حالاں کہ اسناد ایک ہی ہے‘‘۔
            امام دارقطنی اور امام ابوذر ہروی رحمہما اللہ نے اس نوع کے متعلق جو شیخین کے حق میں لازم کیا گیا ہے، کتابیں بھی لکھی ہیں، لیکن یہ بات شیخین پر لازم نہیں؛ کیوں کہ ان دونوں حضرات نے صحیح احادیث کے استیعاب کا التزام کیا ہی نہیں بلکہ ان کی تصریح موجود ہے کہ انہوں نے صحیح احادیث کا احاطہ نہیں کیا بلکہ منتخب صحیح احادیث کو جمع کرنے کا ارادہ کیا اور اسے پورا کیاجیسے فقہ کا مصنف اس کے منتخب مسائل کو جمع کرنے کا ارادہ کرکے اس کو پورا کرتا ہے (المنھاج شرح صحیح مسلم بن حجاج، ج۱ص۲۴، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، مقدمۃ، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص۳۹۳)
            نیز وہابیہ زمانہ کے جہل اور ہٹ دھرمی سے پردہ چاک کرتے ہوئے  حصر احادیث  کے متعلق اعلی حضرت مجدد دین و ملت محدث بریلوی رحمہ اللہ  گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’رابعا ان حضرات کا داب کلی ہے کہ جس امر پر اپنی قاصر نظر، ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل و بے ثبوت ہونے کا حکم لگادیتے اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بنا پر اسے ممنوع و ناجائز ٹھہراتے ہیں۔۔۔۔۔صاحبو! لاکھوں حدیثیں اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلا تدوین میں بھی نہ آئیں، امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں، امام مسلم کو تین لاکھ، پھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں، امام احمد کو دس لاکھ محفوظ تھیں، مسند میں فقط تیس ہزار، خود شیخین وغیرہما ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث کا استیعاب نہیں چاہتے، اور اگر ادعاے استیعاب فرض کیجئے؛ تو لازم آئے کہ افراد بخاری، امام مسلم اور افراد مسلم، امام بخاری اور صحاح افراد سنن اربعہ، دونوں اماموں کے نزدیک صحیح نہ ہوں، اور اگر اس ادعا کو آگے بڑھائیے؛ تو یوں ہی صحیحین کی وہ متفق علیہ حدیثیں جنہیں امام نسائی نے مجتبی میں داخل نہ کیا، ان کے نزدیک حلیہ صحت سے عاری ہوں وہو کما تری‘‘۔ (فتاوی رضویہ مترجم، محدث بریلوی رحمہ اللہ، ج۲۰ص۲۹۴)
صحیح احادیث کے حصر کا مفسدہ کتنا زیادہ خطرناک ہے خود امام محدث بریلوی رحمہ اللہ کے اس علمی تبصرہ سے بخوبی واضح و ظاہر ہے مگر بے جا تشدد تعنت کا انجام چوں کہ قعر مذلت ہی میں گرنا ہے؛ اسی لیے وہابیہ اور ان کے ہم نوا بولتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔
            اور جو لوگ صرف صحیح البخاری یا صحیحین کی احادیث کا مطالبہ کرتے ہیں یا صرف انہیں کی احادیث کو صحیح سمجھتے ہیں؛ تو ان کے نزدیک صرف وہی راوی معتبر ہونا چاہیے جو صحیح البخاری یا صحیحین میں موجود ہو اور جو راوی ان میں موجود نہ ہو، وہ معتبر نہیں ہونا چاہیے اور یہ ظاہر البطلان ہے، ملاحظہ فرمائیں:
            دوسری بات: شیخین کا صحیحین میں راویوں میں سے کسی راوی سے حدیث تخریج نہ کرنا اس بات کو لازم نہیں کہ وہ راوی ساقط یا ضعیف ہے؛ کیوں کہ جیسے ان دونوں حضرات نے احادیث صحیحہ کا استیعاب نہیں کیا ہے بالکل اسی طرح انہوں نے ان راویوں کا بھی احاطہ نہیں کیا ہے جن میں صفات قبول و صحت پائے جاتے ہیںاور ان کی تعداد چالیس ہزار سے زائد ہے؛ کیوں کہ تاریخ بخاری چالیس ہزار (۴۰۰۰۰) سے زائد راویوں پر مشتمل ہے اور انہیں کی کتاب ’الضعفاء‘ میں تقریبا سات سو (۷۰۰) راوی ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’الجامع الصحیح‘ میں دو ہزار (۲۰۰۰) سے کم راویوں کی احادیث تخریج کی ہے جیسا کہ اس کی وضاحت حافظ حازمی رحمہ اللہ نے ’شروط الأئمۃ الخمسۃ‘ میں کی ہے۔
            نیز امام حاکم ابو عبد اللہ نیساپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’معرفۃ علوم الحدیث‘ کے النوع الحادی و الخمسون میں صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے راویوں کو ذکر کیا ہے، جن کی احادیث صحیح میں تخریج نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں ساقط قرار دیا گیا، ان میں سے بعض کے نام ملاحظہ فرمائیں:
            صحابہ: ابوعبیدہ بن جراح، عتبہ بن غزوان اور ابوکبشہ رضی اللہ عنہم وغیرہ، تابعین: محمد بن ابی بن کعب، سائد بن خلاد بن سائب اور ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہم اللہ وغیرہ، تبع تابعین: عبد الرحمن بن ابی الزناد، عطاء بن السائب الثقفی اور ابو یعقوب العبدی رحمہم اللہ وغیرہ (معرفۃ علوم الحدیث، حاکم نیساپوری رحمہ اللہ، النوع الحادی و الخمسون، ص۴۵۲، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص۳۹۴)
            تنبیہ: امام حاکم نیساپوری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو تبع تابعین میں شمار کیا ہے لیکن چوں کہ میرے اعتبار سے امام اعظم رحمہ اللہ کو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے شرف لقا حاصل ہے؛ اس لیے میں نے یہاں پر آپ کو تابعین میں شمار کیا ہے۔
            استاذ محدث و مفکر شیخ امام محمد زاہد کوثری رحمہ اللہ امام حازمی رحمہ اللہ کی کتاب ’شروط الأئمۃ الخمسۃ‘ پر تعلیق فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
            ’’صحیح بات یہ کہ شیخین نے صحیحین میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ایک حدیث بھی روایت نہیں کی ہے، حالاں کہ انہوں نے ان کے شاگردوں کے شاگردوں کے چھوٹے لوگوں کا زمانہ پایا اور ان سے حدیث لی ہے، ان دونوں حضرات نے اپنی کتاب میں امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی حدیث روایت نہیں کی حالاں کہ ان دونوں حضرات کو امام شافعی رحمہ اللہ کے بعض شاگردوں سے شرف لقا حاصل ہے، اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں صرف دو حدیثیں ایک بطور تعلیق اور دوسری ایک واسطہ سے نازلا امام احمد رحمہ اللہ سے روایت کی ہے حالاں کہ آپ نے ان کا زمانہ پایا اور طویل زمانہ تک ان کی مصاحبت میں رہے، اسی طرح امام مسلم رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے ایک حدیث بھی روایت نہیں کی حالاں کہ آپ طویل زمانہ تک ان کی صحبت میں رہے اور اپنی کتاب تصنیف کرنے میں انہیں کا طریقہ کار اختیار کیا، اور امام احمد رحمہ اللہ سے تقریبا صرف تیس (۳۰) احادیث روایت کی، اسی طرح امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’المسند‘ میں عن مالک عن نافع بطریق الشافعی جو أصح الطرق یا من أصح الطرق شمار ہوتا ہے، صرف چار احادیث اور اس طریق کے علاوہ جو احادیث امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کی ہے وہ تقریبا بیس (۲۰) احادیث ہیں حالاں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی شاگردی اختیار کی، آپ سے موطأ مالک سنی اور آپ کو ان کے مذہب قدیم کے راویوں میں شمار کیا گیا۔
            امام زاہد کوثری رحمہ اللہ شیخین و غیرہ کا بہت سارے ائمہ کرام سے احادیث روایت نہ کرنے کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
             ’’شیخین کے دین و امانت کے پیش نظر اس کا ظاہر ی سبب یہ ہے: انہوں نے دیکھا کہ مشرق و مغرب میں ان کے شاگرد بہت ہیں جن کی وجہ سے ان کی روایت ضائع ہونے سے محفوظ ہے، اور اصحاب دواوین کا صرف بعض راویوں کی احادیث پر توجہ دینا دوسرے راویوں کی احادیث کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتا تھا اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جاتی اور یہ مضر ہوتا؛ کیوں کہ بعد میں آنے والے لوگ بعض دواوین کی احادیث حاصل کرکے بعض دوسرے دواوین کی احادیث سے بے نیاز نہیں ہوسکتے ہیں‘‘۔  (حاشیۃ شروط الأئمۃ الخمسۃ، حازمی رحمہ اللہ، ص، الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو،ص۳۹۵)
            امام زاہد کوثری رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ’’جس نے یہ گمان کیا کہ شیخین نے ایسا اس لیے کیا تاکہ ان کی احادیث سے بچ سکیں یا ان ائمہ کے متعلق جرح کی کتابوں میں بعض کلام جیسے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں امام ثوری رحمہ اللہ کا قول، امام شافعی کے بارے میں امام ابن معین رحمہ اللہ کا قول، امام احمد رحمہ اللہ کے بارے میں امام کرابیسی رحمہ اللہ کا قول، امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق امام ذہلی رحمہ اللہ کے قول اور اسی طرح دیگر ائمہ کے بارے میں اقوال کی وجہ سے ایسا کیا؛ تو ان کا یہ گمان ان کے ظلم و زیادتی کی بنا پر ہے‘‘۔ (الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص۳۹۶، حاشیۃ شروط الأئمۃ الخمسۃ، حازمی رحمہ اللہ)
            شیخ محمد محمد ابو زہو فرماتے ہیں: ’’امام حاکم وغیرہ کے کلام سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ شیخین یا ان دونوں میں سے کوئی ایک کبھی کسی ثقہ امام سے روایت نہیں کرتے ہیں، اس کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں، وہ یہ ہیں:
            (۱) اس اسناد میں ضعف واقع ہو جو اس ثقہ اور صاحب صحیح کے درمیان ہے؛ تو صاحب صحیح اس طریق سے حدیث روایت نہیں کرتا (۲) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صاحب صحیح جس امام کی حدیث ترک کردیتا ہے، ان کے بڑے بڑے شاگرد ہوتے ہیںجو ان کی احادیث کو روایت کرتے ہیں؛ تو صاحب صحیح وہ حدیث اس امام سے روایت کرنے سے بے نیاز ہوجاتا ہے (۳) کبھی طلب علو اسنا د پیش نظر ہوتا ہے؛ کیوں کہ حدیث کبھی امام کے طریق سے نازل اور دوسرے ثقہ راوی کے طریق سے عالی ہوگی؛ تو صاحب صحیح اسناد عالی کا انتخاب کرتا ہے؛ کیوں کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرب زیادہ میسر آتا ہے‘‘۔ (الحدیث و المحدثون، محمد محمد ابوزہو، ص۳۹۶)
کتب ستہ کے علاوہ کتابوں کی احادیث
            امام عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ سنن اربعہ اور دیگر کتب احادیث کے متعلق تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
            ’’دوسرے سوال کے جواب میں جو باتیں میں نے لکھی ہیں شاید اس کے ذریعہ غور و خوص کرنے والا یہ سمجھ جائے کہ بعض عوام کے ذہن جو یہ بات ذہن نشیں ہو چکی ہے کہ کتب سنن کی ہر حدیث قابل احتجاج ہے، یہ قابل اعتبار نہیں اور اسی طرح بعض کے ذہن میں جو یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ کتب ستہ یا کتب سبعہ کے علاوہ میں جو موجود ہے، وہ حدیث ضعیف ہے، یہ بات بھی قابل توجہ اور قابل احتجاج نہیں‘‘۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ للأسئلۃالعشرۃ الکاملۃ، عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ، ص۱۱۷، ط: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ، بیروت)
اعلی حضرت مجدد دین و ملت محدث بریلوی رحمہ اللہ محدثین کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے اسی تشدد و تعنت،  جہل اور کتب ستہ میں احادیث صحیحہ کو محدود سمجھنے والے کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اور استناد کا روایات صحیحہ مرفوعہ متصلۃ الاسناد میں حصر اور صحاح کا صرف کتب ستہ پر قصر جیسا کہ ’صاحب مأۃ مسائل‘ سے یہاں واقع ہوا، جہل شدید و سفہ بعید ہے، حدیث حسن بھی بالاجماع حجت ہے، غیر عقائد و احکام حلال و حرام میں حدیث ضعیف بھی بالاجماع حجت ہے، ہمارے ائمہ کرام حنفیہ و جمہور ائمہ کے نزدیک حدیث مرسل غیر متصل الاسناد بھی حجت ہے، ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک حدیث موقوف غیر مرفوع قول صحابی بھی حجت ہے کہ یہ سب مسائل ادنی طلبہ علم پر بھی روشن ہیں اور حدیث صحیح کا ان چھ کتابوں میں محصور نہ ہونا بھی علم حدیث کے ابجد خوانوں پر بین و مبرہن و لکن الوہابیۃ قوم یجہلون‘‘۔ (فتاوی رضویہ مترجم، محدث بریلوی رحمہ اللہ، ج۹ص۶۵۱، ط: مرکز اہل سنت برکات رضا، گجرات)
کیا صحیحین کے علاوہ کتب متون میں صحیح احادیث کم ہیں؟!
            بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ صحیح البخاری و مسلم یا اصول خمسہ کے علاوہ کتب میں جو صحیح احادیث ہیں، وہ بہت کم ہیں، اس نظریہ کا بھی زیر نظر بحث سے کافی حد تک تعلق ہے؛ اس لیے اس کے متعلق بھی دو چند باتیں ملاحظہ فرمالیں:
            ’’حافظ ابوعبد اللہ بن اخرم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بہت کم ایسا ہے کہ کوئی حدیث ثابت ہو اور وہ بخاری و مسلم میں نہ ہو‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع الأول: معرفۃ الصحیح، ص۱۰)
            حافظ ابوعبد اللہ رحمہ اللہ کے اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ صحیحین کے علاوہ دوسری کتابوں میں ثابت شدہ احادیث بہت کم ہیں، مگر ان کا یہ قول محل نظر ہے؛ کیوں کہ یہاں پر یہ بجا طور سے کہا جاسکتا ہے کہ سنن اربعہ وغیرہ کو چھوڑ کر اگر صرف ایک کتاب ’المستدرک علی الصحیحین للحاکم‘ کو مد نظر رکھا جائے؛ تو صرف یہی ایک کتاب اس قول کے غیر صحیح ہونے کے لیے کافی ہے، امام ابن صلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’کہنے والا یہ کہ سکتا ہے کہ دیگر کتب میں صحیح احادیث کم نہیں ہیں بلکہ زیادہ ہیں؛ کیوں کہ ’المستدرک علی الصحیحین للحاکم‘ متون حدیث میں بڑی کتاب مانی جاتی ہے، یہ خود بہت ساری ایسی صحیح احادیث پر مشتمل ہے جو صحیحین میں نہیں، اگرچہ اس کتاب میں کچھ کلام ہے مگر پھر بھی اس میں کثرت سے صحیح احادیث موجود ہیں‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع الأول: معرفۃ الصحیح، ص۱۰)
            اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ امام ابن اخرم رحمہ اللہ کی مراد صحیحین سے فوت ہونے والی مطلقا صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ ان کی مراد اپنے اس قول سے وہ صحیح احادیث ہیں جو صحیحین کی شرط کے مطابق ہوں، یعنی صحیحین کی شرط کے مطابق جو احادیث ہیں وہ ان دونوں سے بہت کم فوت ہوئی ہیں (النکت علی کتاب ابن الصلاح، ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ، ص۴۴، ط: المکتبۃ التوفیقیۃ، قاہرہ)
            اعتراض اور جواب سے یہ واضح ہوگیا کہ صحیحین کی شرط کے مطابق اگرچہ صحیح احادیث دیگر کتب متون میں تھوڑا کم ہیں لیکن دوسری صحیح احادیث جو اگرچہ صحیحین کی شرط کے مطابق صحیح نہیں، وہ کتب متون میں کثرت سے موجود ہیں؛ لہذا مطلقا یہ سمجھنا یا سمجھنانے کی مذموم کوشش کرنا کہ صحیحین کے علاوہ کتب متون میں صحیح احادیث کم ہیں، غلط اور بے بنیاد ہے۔
کیا اصول خمسہ کے علاوہ کتب متون میں صحیح احادیث کم ہیں؟!
            امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اصول خمسہ یعنی صحیحین، سنن أبی داؤد، سنن الترمذی اور سنن النسائی سے صحیح احادیث بہت کم فوت ہوئی ہیں‘‘۔
            مذکورہ بالا امام نواوی رحمہ اللہ کے قول سے بھی کسی کو دھوکا ہوسکتا ہے کہ اصول خمسہ کے علاوہ کتب متون میں مطلقا صحیح احادیث کم ہیں؛ کیوں کہ امام نواوی رحمہ اللہ کا قول اسی پر دلالت کرتا ہے، مگر میرے خیال سے اس کے متعلق فیصلہ کرنے میں اتنی جلدبازی نہیں کرنی چاہیے، امام نواوی رحمہ اللہ کی مراد جاننے کے لیے امام ابن حجر رحمہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں:
            ’’اس قول سے امام نواوی رحمہ اللہ کی مراد خاص کر احکام کی احادیث ہیں ورنہ احادیث احکام کے سوا صحیح احادیث بہت زیادہ ہیں‘‘۔ (النکت علی کتاب ابن الصلاح، ص۴۴، ط: المکتبۃ التوفیقیۃ، قاہرہ)
            نیز امام عراقی رحمہ اللہ امام نواوی رحمہ اللہ کے قول کا تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یہ کلام محل نظر ہے، کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں‘‘۔ پھر فرمایا: ’’اس قول سے شاید امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد تکرار اسانید کے ساتھ احادیث اور موقوفات بھی ہیں؛ کیوں کہ کبھی ایک حدیث جو دو سند سے مروی ہوتی ہے، اسے دو حدیث شمار کیا جاتا ہے‘‘۔ امام ابن جماعہ رحمہ اللہ نے ’المنہل الروی‘ میں کچھ اضافہ فرماتے ہوئے لکھا: ’’یا امام بخاری رحمہ اللہ نے کثرت میں مبالغہ مراد لیا ہے‘‘۔ پھر فرمایا: ’’پہلا قول اولی ہے‘‘۔(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، ص۷۴، ط: دار الحدیث، قاہرہ)
            فقیہ نجم الدین قمولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کل احادیث چودہ ہزار (۱۴۰۰۰) ہیں‘‘۔ (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، زرکشی رحمہ اللہ، النوع الأول من أنواع علوم الحدیث، ص۶۴، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
            پھر امام بخاری رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
            ’’آپ کے قول سے طرق و اسانید کا تعدد، صحابہ اور تابعین کے آثار وغیرہ سب مراد ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ نے ان سب کو احادیث کا نام دیا؛ کیوں کہ سلف صالحین ان تمام چیزوں پر حدیث کا اطلاق کرتے تھے اور یہ تاویل کثرت میں مبالغہ کی تاویل سے بہتر و اولی بلکہ یہی تاویل متعین ہے، اس سے عدول جائز نہیں ‘‘۔(النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، زرکشی رحمہ اللہ، النوع الأول من أنواع علوم الحدیث، ص۶۴)
            اس کے بعد امام بدر الدین زرکشتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’اس تاویل کی تائید حفاظ کی ایک جماعت سے صحیح طور پر ثابت شدہ روایت سے بھی ہوتی ہے کہ احادیث اسی تعداد میں محدود و منحصر نہیں، اس کے متعلق بعض اقوال ملاحظہ فرمائیں:
            ’’امام یحی بن سعید قطان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: مسند احادیث کتنی ہیں؛ تو آپ نے فرمایا: ہمارے اصحاب نے مسند کا شمار کیا ہے وہ مکرر کے ساتھ آٹھ ہزار احادیث ہیں۔۔۔اہل بصرہ کے محدثین فرماتے ہیں: کل مسند احادیث سات ہزار سے زائد ہیں۔۔۔امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کل مسند احادیث چار ہزار سے زائد ہیں۔۔۔۔۔۔امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کل احادیث چھ یا سات ہزار ہیں‘‘۔ (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، زرکشی رحمہ اللہ، النوع الأول من أنواع علوم الحدیث، ص۶۴)
            امام زرکشی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
            ’’یہ تعداد اس کی بنسبت بہت کم ہے جسے امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے کتاب الحث علی الحفظ میں روایت کیا ہے‘‘۔ ان میں سے بھی بعض اقوال ملاحظہ فرمائیں:
            امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مجھے اپنی کتاب کے ذریعہ ایک لاکھ (۱۰۰۰۰۰) حدیث کا علم ہے گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں، ان میں سے مجھے زبانی ستر ہزار (۷۰۰۰۰) صحیح احادیث یاد ہیں اور اسی طرح چار ہزار (۴۰۰۰) ضعیف احادیث بھی یاد ہیں۔۔۔امام ابوزرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسے ایک انسان قل ھو اللہ أحد یاد رکھتا ہے اسی طرح مجھے دو لاکھ (۲۰۰۰۰۰) احادیث یاد ہیں اور مذاکرہ کے اعتبار سے تین لاکھ (۳۰۰۰۰۰) احادیث یاد ہیں۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے مروی ہے: صحیح احادیث سات لاکھ (۷۰۰۰۰۰) سے زائدہیں۔۔۔نیز امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہی سے مروی ہے: آپ نے دس لاکھ (۱۰۰۰۰۰۰) احادیث لکھی، ان میں سے تین لاکھ (۳۰۰۰۰۰) احادیث کو آپ نے ساقط کردیا اور سات لاکھ (۷۰۰۰۰۰) احادیث سے منتخب کرکے اپنی کتاب مسند تحریر فرمائی‘‘۔ (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، زرکشی رحمہ اللہ، النوع الأول من أنواع علوم الحدیث، ص۶۵)
            آٹھ ہزار وغیرہ اور ایک لاکھ وغیرہ اقوال کے درمیان بہت تفاوت اور تعارض نظر آتا ہے؛ اس لیے امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ائمہ کرام رحمہم اللہ کے ان اقوال کے درمیان جمع و تطبیق یوں ممکن ہے کہ جن سے کم احادیث کے وجود کا قول منقول ہے اسے اصول احکام پر محمول کیا جائے جیسا کہ ابوبکر بن عقال رحمہ اللہ سے مروی ہے۔  (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، زرکشی رحمہ اللہ، النوع الأول من أنواع علوم الحدیث، ص۶۵)
            امام مزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام ابن ماجہ رحمہ اللہ جس حدیث کی روایت کرنے میں اصول خمسہ سے منفرد ہیں، وہ ضعیف ہے‘‘۔ امام حسینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام مزی رحمہ اللہ کے اس قول سے مراد احادیث ہیں‘‘۔ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ان کا تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کثیر احادیث روایت کرنے میں منفرد ہیں اور وہ صحیح ہیں؛ اس لیے اولی یہ ہے کہ اس انفرادیت کے ضعف کو رجال پر محمول کیا جائے‘‘۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، ص۷۶)
            اس تفصیلی بیان اور تطبیق سے واضح ہوگیا کہ اصول خمسہ سے جو کم مقدار میں احادیث صحیحہ فوت ہوئیں ہیں، وہ احکام کی احادیث ہیں ورنہ احکام کی احادیث کے علاوہ فضائل و مناقب اور دیگر ابواب سے متعلق کتب متون میں صحیح احادیث بہت کثرت سے موجود ہیں۔
صحیحین یا کتب ستہ کے علاوہ کن کتابوں سے صحیح احادیث حاصل کی جائے؟
            نیز اگر ان وہابیوں کے مطابق صحیح احادیث صرف صحیحین یا کتب ستہ میں منحصر ہوتی یا صرف ان کی احادیث سے ہی احتجاج درست ہوتا؛ تو ائمہ کرام رضی اللہ عنہم کیوں اس بات کا حکم دیتے کہ صحیحین یا کتب ستہ کے علاوہ فلاں فلاں کتابوں سے بھی صحیح احادیث حاصل کی جاسکتی ہیں، امام ابن صلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’پھر صحیحین کے علاوہ صحیح احادیث ائمہ حدیث کی مشہور کتابوں سے حاصل کی جائے‘جیسے سنن أبی داؤد، سنن الترمذی، سنن النسائی، صحیح ابن خزیمہ، سنن الدارقطنی وغیرہ جس کی صحت پر صراحت موجود ہو، سنن أبی داؤد، سنن الترمذی اور سنن النسائی وغیرہ کتابوں میں جس میں صحیح و غیرصحیح دونوں جمع کی گئی ہیں، ان میں صرف حدیث موجود ہونا کافی نہیں، البتہ جنہوں نے صحت کا التزام کیا ہے جیسے صحیح ابن خزیمہ، اسی طرح جو صحیح البخاری یا صحیح مسلم پر مخرج کتب ہیں، ان میں احادیث کا موجود ہونا، ان کے صحیح ہونے کے لیے کافی ہے، جیسے کتاب أبی عوانہ اَسفرائینی، کتاب ابی بکر اسماعیلی اور کتاب ابی عبد اللہ حمیدی وغیرہ‘‘۔ (مقدمۃ ابن الصلاح، النوع الأول: معرفۃ الصحیح، ص۱۱)
            امام ابن صلاح رحمہ اللہ نے یہاں یہ فکر دینے کی کوشش کی ہے کہ مشہور کتابیں جن کے مصنفین نے صحت کی صراحت کی ہے، صرف انہیں کی احادیث کو صحیح مانا جائے اور اگر ان کی مصنفات کے علاوہ میں تصحیح موجود ہو یا ایسے امام کی تصحیح جن کی کوئی تصنیف مشہور نہ ہو، ان کی احادیث کو صحیح تسلیم کرنا محل نظر ہے؛ کیوں کہ آپ کی رائے یہ ہے کہ اس زمانہ میں کسی کو تصحیح احادیث کی اجازت نہیں، امام عراقی رحمہ اللہ امام ابن صلاح رحمہ اللہ کے اس قول پر استدراک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
            ’’اسی طرح ابن صلاح رحمہ اللہ نے مقید رکھا ہے، مگر میں اس قید کا قائل نہیںبلکہ اگر صحیح طریق سے ثابت ہوجائے کہ ان ائمہ کرام نے اپنی مصنفات کے علاوہ میں اس حدیث کی تصحیح کی ہے یا ائمہ کرام میں سے کسی ایسے امام نے تصحیح کی ہے جن کی کوئی کتاب مشہور نہیں؛ تو ان کی بھی تصحیح قبول کی جائے گی، جیسے امام یحی بن سعید قطان اور امام ابن معین رحمہما اللہ وغیرہ‘‘۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ للأسئلۃالعشرۃ الکاملۃ، عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ، ص۱۵۱)
            اسی طرح علوم حدیث کی از ابتدا تا انتہا سب نہیں تو اکثر کتابیں مطالعہ کی جاسکتی ہیں اور ہر کتاب میں یہی ملے گا کہ صحیحین کے علاوہ یا اصول خمسہ یا کتب ستہ کے علاوہ صحیح احادیث حاصل کرنے کے لیے فلاں فلاں کتاب کی طرف رجوع کیا جائے، اس بیان سے بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ صحیح احادیث صرف صحیحین یا کتب ستہ میں محدود و منحصر نہیں۔
کیا صحیح احادیث کو محدود کیا جاسکتا ہے؟!
            بعض محدثین کرام نے اگرچہ صحیح احادیث کو محدود و متعین کرنے کی کوشش کی ہے، مگر صحیح یہی ہے کہ ان کی حد بندی کرنا یا ان کو متعین کرنا ناممکن ہے اور اگر ناممکن نہیں تو کم از کم بہت بعید ضرور ہے:
            امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’احادیث کا کسی متعین تعداد میں محصور و محدود کرنا امکان سے باہر ہے مگر پھر بھی ایک جماعت نے احادیث کے تتبع اور ان کی تعداد متعین کرنے میں مبالغہ سے کام لیا ہے‘‘۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ، ص۷۴، ط: دار الحدیث، قاہرہ)
            امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’کون ہے جو صحیح احادیث کا احاطہ کرے یہاں تک کہ انہیں محصور و محدود کردیا جائے؟!)) (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، زرکشی رحمہ اللہ، النوع الأول من أنواع علوم الحدیث، ص۶۵)
            خلاصہ کلام: بہر کیف اس پورے بیان سے مندرجہ ذیل چیزیں واضح ہوکر سامنے آئیں:
            (۱)مطلقا صحیح احادیث صحیح البخاری یا صحیحین یا اصول خمسہ یا کتب ستہ میں منحصر نہیں(۲) اسی طرح احکام کی صحیح احادیث صحیح البخاری یا صحیحین یا اصول خمسہ میں منحصر نہیں (۳) حدیث کے غیر صحیح ہونے سے اس کا ضعیف یا موضوع ہونا لازم نہیں؛ کیوں کہ غیر صحیح ہونے کی صورت میں جہاں ضعیف یا موضوع ہونے کا احتمال ہے، وہیں حدیث کے حسن ہونے کا بھی احتمال ہے (۴) صحیحین میں ذکر کرنے سے جو کم مقدار میں صحیح احادیث رہ گئیں ہیں، وہ کم مقدار میں صحیح احادیث وہی ہیں جو صحیحین کی شرط کے مطابق ہیں (۵) اگر صحت میں صحیحین کی شرط کا لحاظ نہ کیا جائے؛ تو صحیحین کے علاوہ کتب متون میں کثرت سے صحیح احادیث موجود ہیں (۶) صاحب صحیح کا کسی راوی سے حدیث روایت نہ کرنے سے اس راوی کا ضعیف ہونا یا اس کا قابل احتجاج نہ ہونا لازم نہیں آتا (۷) اصول خمسہ سے احکام کی احادیث کم ہی مقدار میں فوت ہوئی ہیں (۸) البتہ مطلقا دوسرے ابواب سے متعلق صحیح احادیث؛ تو وہ اصول خمسہ کے علاوہ کتب متون میں بہت زیادہ موجود ہیں (۹) کتب ستہ کے علاوہ جیسے مسند احمد اور صحیح ابن حبان وغیرہ کتب متون میں صحیح احادیث وافر مقدار میں موجود ہیں (۱۰) اگرچہ بعض لوگوں نے صحیح احادیث کی حد بندی کرنے کی کوشش کی ہے مگر صحیح یہ ہے کہ ان کی حد بندی کرنا ناممکن نہیں تو بعید الوقوع ضرور ہے؛ لہذا وہابی وغیرہ کسی بھی فرد کا یہ حق نہیں کہ وہ صحیح احادیث کو صحیح البخاری یا صحیحین یا اصول خمسہ یا کتب ستہ میں منحصر و محدود کرنے کی کوشش کرے یا بطور احتجاج صرف صحیح البخاری یا صحیحین یا اصول خمسہ یا کتب ستہ کی ہی کی صحیح احادیث کا مطالبہ کرے؛ کیوں کہ یہ تحدید اور اس طرح کا مطالبہ دونوں باطل و مردود ہے، اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ہدایت دے اور ہم سب کو اہل سنت و جماعت پر قائم و دائم رکھے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
تمت بالخیر

ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۱۴؍ذی الحجہ ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۶؍اگست ۲۰۱۸ء

Wednesday, August 28, 2019

دعا و آداب دعا کے ساتھ اسباب کا استعمال ضروری

مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما

دور حاضر میں عموما بندہ مؤمن تین طرح کے ہیں: ایک وہ جو صرف اسباب پر اعتماد کرتے ہیں او رانہیں عموما دعا وغیرہ سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا، عموما بندہ اللہ تعالی کی ذات سے خالی ذہن ہوکر اپنے کمزور بازؤں پر امید قوی رکھتا ہے، دوست و احباب، بھائی و بہن پر اعتماد کلی رکھتا ہے اور اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے، اسباب کو بروے کار لانا جرم نہیں، مگر اللہ تعالی کو یکسر بھول جانا ضرور جرم ہے؛ کیوں کہ اگر وہ چاہ لے گا؛ تو اسباب و علل بھی کام کرنا بند کردیں گے؛ اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ ہر حال و ہر صورت میں اسباب کو بروے کار لانے کے ساتھ، اپنے رب کو یاد کرے اور کام کے پورا ہونے یا نہ ہونے میں اسی کی طرف متوجہ ہوکر دعا کرے اور بازؤں پر اعتماد کرنے کے ساتھ قادر مطلق سے التجا کرنا نہ بھولے؛ کیوں کہ وہی بندہ کی دعا قبول کرنے والا ہے، وہی بندہ کی بگڑی بنانے والا ہے اور وہی بندہ کی دنیا و آخرت کو تابناک کرنے والا ہے؛ اس لیے ہر بندہ مؤمن کو چاہیے کہ وہ اسباب کو بروے کار لانے کے ساتھ اپنے رب تعالی سے بھی ضرور دعا کرے۔
دوسرے وہ جو صرف دعا پر اعتماد کرتے ہیں اور اسباب و اعمال کی طرف ان کی بالکل توجہ نہیں ہوتی، یہ بھی بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں فلاں عالم یا پیر صاحب نے دعا کردیا، بس کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا، فلاں بزرگ کے مزار پر حاضری ہوگئی، بس یہی سب کچھ ہے، نہ تو اسباب کو بروے کار لانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اپنی بے عملی اور بے راہ روی کو درست کرنے کی ضرورت ہے، کسی عالم باعمل یا پیر صاحب سے دعا کرانا اچھی بات ہے، کسی بزرگ کے مزار پر حاضری باعث برکت ہے، مگر کس عالم، پیر یا صاحب مزار نے یہ تربیت تو نہیں دی ہے کہ دعا و حاضری کے بعد اسباب استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، نیک اعمال، فرائض و واجبات کی طرف توجہ دینے کی چنداں حاجت نہیں! نہیں کسی باعمل عالم، پیر یا صاحب مزار نے ایسی تربیت نہیں کی، پھر ایسی بے عملی اور اسباب سے روگردانی کیوں؟! مسلمانو! اگر کامیابی چاہتے ہو؛ تو اب بھی وقت ہے، خود نماز وغیرہ کے پابند بنو اور ظاہری اسباب کو بروے کار لاؤ، پھر کسی باعمل عالم یا باعمل پیر صاحب سے دعا کراؤ اور مزارات پر حاضری دو، خود دعا کرو اور دوسرے نیک اعمال بجالاؤ، یہی طریقہ آپ کی دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے، محض دعا کرنا اور حاضری دینا آپ کی کامل کامیابی کی ضمانت نہیں۔
 تیسرے وہ جو کسی میدان میں کامیابی کے لیے اسباب کو بروے کار لاتے ہیں، فرائض واجبات وغیرہ ادا کرکے نیک اعمال کرتے ہیں، ساتھ ہی رب تعالی پر اعتماد کرکے اس کی بارگاہ میں کامیاب و کامرانی لیے دعا کرتے ہیں، باعمل علما یا باعمل پیران عظام وغیرہ سے دعا بھی کراتے ہیںاور بزرگان دین کے مزارات پر جائز طریقہ سے حاضری دیتے ہیں، یہی دارین میں فلاح پانے والے ہیں، آج امت مسلمہ اگر دنیا و آخرت میں مکمل کامیابی چاہتی ہے ؛ تو اسے اسی گروہ کے نقش قدم پر چلنا پڑے گا اور اسی کا طریقہ کار اپنا نا ہوگا، اس طریقہ کے بغیر امت مسلمہ اپنی منزل کبھی نہیں پاسکتی؛ لہذا ہمیں اور آپ کو ہوش میں آنے کی ضرورت ہے اور صحیح ڈھنگ سے زندگی گزارنے کی شدید حاجت ہے۔
پہلے دو طرح کے لوگ افراط و تفریط کے شکار ہیں، ان کا طریقہ غلط ہے اور یہی سب سے زیادہ ہیں، تیسرا گروہ، وہی اعتدال و توسط کا حامل ہے، انہیں کا طریقہ درست و صحیح ہے، مگر اس طرح کے لوگ بہت کم پائے جاتے ہیں، آخری گروہ کا طریقہ اختیار کیے بغیر بھی کسی عالم باعمل یا باعمل پیر سے دعا کرانا اور مزارات پر جائز طریقہ سے حاضری دینا فائدہ مند تو ہے، مگر جو فائدہ امت مسلمہ کو درکار ہے وہ مثل سراب کے سوا کچھ نہیں، اللہ تعالی رحم و کرم فرمائے، آمین۔
نیز عموما ایسا ہوتا ہے کہ بندہ غم و پریشانی میں اپنے رب تعالی کو تو یاد کرتا ہے مگر خوشحالی میں عموما اسے بھولا رہتا ہے، مگر ایک بندئہ مؤمن کی یہ شان نہیں، بلکہ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ اپنے رب تعالی کو صرف غم ہی میں نہیں بلکہ خوشی و غم ہر حال میں یاد کرے؛ کیوں کہ بندہ صرف پریشانی ہی میں اس کا محتاج نہیں بلکہ ہر حال میں اسی کا محتاج ہے؛ اس لیے ہر حال میں اس سے مدد طلب کرنا چاہیے؛ کیوں کہ اس سے مدد طلب کرنا، ایک عاجز و ضعیف کا قادر مطلق سے مدد طلب کرنا ہے، ایک پریشان حال کا سب سے زیادہ مہربان اور کرم والے سے مدد طلب کرنا ہے، ایسی ذات سے حل طلب کرنا ہے جو دنیا و آخرت اور اس کے ہر ہر جز کا پیدا کرنے والا ہے، وہی ہر چیز کا مالک و مختار ہے؛ لہذا حقیقی معنوں میں اسی کی ذات ہے جو بندہ کی پریشانی، مصیبت اور غموں کو دور کرسکتی ہے، اسی کی ذات ہے جو بندہ کی امیدیں، آرزوئیں اور جائز مرادیں پوری کرسکتی ہے؛ اس لیے اے مسلمانو! زندگی کے کسی گوشے، خوشی و غم، ہر حال میں اسے پکارنا اور یاد کرنا نہ بھولو؛ کیوں کہ مالک حقیقی کو پکار نا اور اس سے دعا کرنے کی قرآن پاک اور احادیث میں بہت زیادہ فضیلتیں آئی ہیں، یہاں پر ان میں سے بعض ملاحظہ فرمائیں:
 اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: {وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِی أَسْتَجِبْ لَکُم} (غافر:۴۰، آیت:۶۰) ترجمہ: ((اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا)) (کنز الایمان) اور دعا کی اہمیت کے پیش نظر ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:((الدعائ ھو العبادۃ)) ترجمہ: ((حقیقت میں دعا ہی عبادت سے موسوم ہونے کی حقدار ہے)) (سنن الترمذی، باب ماجاء فی فضل الدعاء، رقم: ۳۳۷۲، ط:مصطفی البابی الحلبی، مصر)
اسی وجہ سے بندہ اگر خلوص کے ساتھ دعا کرتا ہے؛ اللہ تعالی اسے، اس دعا و عبادت کا اجر دنیا و آخرت یا صرف آخرت میں ضرور عطا فرماتا ہے، حضور آقاے دوجہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((إن ربَّکُم تبارک و تعالی حَیِی کریم یَستحی من عبدہ إذا رَفَع یدیہ إلیہ أن یَرُدّہما صِفْرا)) ترجمہ: ((بے شک تمہارارب تبارک و تعالی اپنی شان کے مطابق بہت زیادہ حیا اور کرم فرمانے والا ہے، وہ اپنے بندہ مؤمن سے اپنی شان کے مطابق حیا فرماتا ہے کہ جب بندہ اس کی طرف دونوں ہاتھ اٹھائے؛ تو وہ دونوں ہاتھوں کو رحمت سے خالی واپس کردے)) (سنن أبی داود، باب الدعاء، رقم:۱۴۸۸، ط:المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
نیز بندہ کو جو پریشانی لاحق ہوئی، اس کو ختم کرنے کے لیے اور جو بلا آنے والی ہے، اس سے بچنے کے لیے بھی دعا نفع بخش ہے؛ بندہ دو حال سے خالی نہیں یا تو کسی بلا میں مبتلا ہوگا اور مزید مبتلا بھی ہو سکتا ہے یا کسی بلا میں مبتلا تو نہیں ہوگا مگر مبتلا ہونے کا خطرہ بہر حال ہے؛اس لیے ہر بندہ، جس کو کوئی پریشانی لاحق ہے یا جس کو پریشانی لاحق نہیں ہے، دونوںکو چاہیے کہ ہمیشہ دعا کرتے رہیں تاکہ موجودہ بلا سے نجات پائیں اور ناگہانی آنے والی بلا سے بھی محفوظ رہیں، حضور آقاے دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((إن الدعائَ یَنفعُ مما نَزَل و مما لم یَنْزل؛ فعلیکم عِبادَ اللہ بالدعائ)) ترجمہ:((بے شک دعا اتری بلا کے دور کرنے اور جو بلا آنے والی ہے، اس سے محفوظ رکھنے میں نفع بخش ہے؛ لہذا اے اللہ کے بندو! تم دعا کو لازم پکڑ لو)) (سنن الترمذی، باب فی فضل التوبۃ و الاستغفار، رقم:۳۵۴۸،ط:مصطفی البابی الحلبی، مصر)
جب ہر بندہ کے لیے دعا کرنا بہتر ہے؛ تو ہر بندہ کو آداب دعا کا بھی علم رکھنا ضروری ہے، آداب دعا کا علم نہ ہونے کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے حق میں مفید دعا کرنے کے بجاے، ایسی دعا کربیٹھے جو اس کے حق میں مضر اور نقصان دہ ہو، آداب دعا کی چند جھلکیاں نظر قارئین ہے:
(۱) آداب دعا میں سے ایک یہ ہے کہ بندہ مؤمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی دعا اس کے لیے مفید اور کون سی مضر ہے، اس کے متعلق حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں:
عن أنس رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاد رجلا من المسلمین قد خَفَتَ فصار مثل الفرخ؟ فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:((ھل کنت تدعو بشی ئ أو تسألہ إیاہ؟)) قال نعم، کنت أقول: اللہم ماکنت معاقبی بہ فی الآخرۃ؛ فعَجَّلَہ لی فی الدنیا؛ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((سبحان اللہ، لاتطیقہ و لاتستطیعہ، أفلا قلت: اللہم آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار)) قال: ((فدعا اللہ لہ فشفاہ)) ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلم کی عیادت فرمائی، جو پرندہ کے بچہ کی طرح کمزور ہوچکا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:
((کیا تم کسی چیز کے ذریعہ دعا کررہے تھے یا اس سے کچھ مانگ رہے تھے)) اس نے عرض کیا: ہاں، میں کہ رہا تھا: مجھے آخرت میں سزاد نہ دے؛ تو اللہ تعالی نے مجھے دنیا ہی میں سزا دے دی؛ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((سبحان اللہ! تم اس کی دنیا میں طاقت نہیں رکھتے اور نہ تم آخرت میں اس کو برداشت کرسکتے ہو، تم نے یہ دعا کیوں نہیں پڑھی: اللہم آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار)) ترجمہ: ((اے اللہ! تو مجھے دنیا و آخرت میں عافیت عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا)) راوی کہتے ہیں: ((پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے رب تعالی کی بارگاہ میں دعا کی؛ تو اللہ تعالی نے اسے شفا عطا فرمادیا)) (صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء ، باب کراھیۃ الدعاء بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا، رقم: ۲۶۸۸، ط:دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
آداب دعا کا علم نہ ہو نے کی وجہ سے صحابی رسول نے اپنے حق میں ایسی دعا کرلی جس کو وہ دنیا میں برداشت کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے اور نتیجے میں کمزور و ناتواں ہوتے جارہے تھے، حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وقت پر پہونچ کر انہیں آداب دعا سے آگاہ کیا اور ان کے لیے دعا بھی کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے صدقہ میں وہ شفا یاب ہوگئے، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم وقت پر پہونچ کر ان کی تربیت نہ کرتے اور وضاحت نہ فرماتے کہ آداب دعا میں سے ہے کہ مؤمن اللہ تعالی سے صرف آخرت ہی کی بھلائی نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرے؛ تو ان کے غلط طریقہ سے دعا کرنے کا نتیجہ ان کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتا؛ اس لیے ہر مؤمن بندہ کو آداب دعا کا علم رکھنا چاہیے۔
(۲) آداب دعا میں سے یہ بھی ہے کہ معاملہ خواہ کتنا بڑا اور کتنا مشکل ہی کیوں نہ ہو، ہر بندہ مؤمن کو چاہیے کہ اللہ عز وجل سے کامل اعتماد و یقین کے ساتھ دعا کرے اور اس ادب کی تعلیم حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو دی ہے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((إذا دعا أحدکم فلیعزم المسئلۃ، و لایقولن: اللہم إن شئت فأعطنی؛ فإنہ لامستَکرِہ لہ)) ترجمہ: ((جب تم میں سے کوئی دعا کرے؛ تو عزم و استقلال کے ساتھ مانگے اور ہر گز یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے؛ تو مجھے عطا کردے؛ کیوں کہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں)) (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب لیعزم المسئلۃ  فانہ لامکرہ لہ، رقم:۶۳۳۸، ط:دار طوق النجاۃ)
نیز حضور سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ((اد عوا اللہَ و أنتم مؤقنون بالإجابۃ، و اعلموا أن اللہ لایستجیب دعائَ من قلب غافل، لاہ)) ترجمہ: ((تم اللہ تعالی سے اس حال میں دعا کرو کہ تمہیں دعا قبول ہونے کا یقین کامل ہو اور اس بات کو ذہن میں رکھو کہ اللہ تعالی مانگنے والی چیز سے غفلت کرنے والے اور اللہ تعالی کے علاوہ سے اشتغال رکھنے والے کی دعا قبول نہیں فرماتا)) (سنن الترمذی، باب جامع الدعوات، رقم: ۳۴۷۹، ط:مصطفی البابی الحلبی، مصر)
اس حدیث کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:  (۱) دعا قبول ہونے کے لیے یقین کامل کی صورت اسی وقت پیدا ہوگی جب بندہ مؤمن بھلائی کرے، برائی سے پرہیز کرے، دعا کے شروط جیسے دل حاضر رکھے اور اچھے اوقات و احوال کو غنیمت جانے (۲) اس یقین و اعتقاد کے ساتھ دعا کرے کہ اللہ تعالی اپنی کرم کی وسعت اور کمال قدرت کے پیش نظر محروم نہیں کرے گا تاکہ سچی امید اور خلوص کے ساتھ دعا کا تحقق ہوسکے؛ کیوں کہ دعا کرنے والے کی امید جب تک پختہ اعتماد کے ساتھ نہیں ہوگی، اس کی دعا سچی نہیں ہوگی اور سچی نہیں ہوگی؛ تو دعا قبول ہونے کا امکان بھی بہت کم ہوگا (مرقاۃ المفاتیح؍ علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری، ج۴ص۱۵۳۱، دار الفکر، بیروت)
آج ہم امت مسلمہ کا جائزہ لیں؛ تو عموما یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ گناہ میں لت پت ہونے کی حالت میں دعا کرتے ہیں، انہیں شک و شبہات چاروں طرف سے گھیرے رہتے ہیں کہ پتہ نہیں دعا قبول ہوگی یا نہی اور یوں ہی لوگ عموما اپنی دعا میں غفلت سے کام لیتے ہیں، دل رب تعالی کے بجاے کسی دنیوی مسئلہ میں لگا ہوتا ہے، پھر دعا کہاں سے قبول ہو، مسلمانو! دعا کرنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلو، ان شائ اللہ دعا مقبول و مبرور ہوگی۔
(۳) آداب دعا میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ مؤمن دعا میں استقلال و استمرار پیدا کرے اور دعا کی قبولیت میں جلد بازی کی وجہ سے اسے ترک نہ کرے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((لایزالُ یُستجابُ للعبد مالم یدْع بإثم أو قطیعۃ رحم، مالم یستعجل)) قیل: یا رسول اللہ! ما الاستعجال؟ قال: ((یقول: قد دعوتُ فلم أر یستجیب لی، فیستحسر عند ذلک، و یَدَع الدعائ)) ترجمہ: ((اگر بندہ مؤمن گناہ یا قطع رحم کی دعا نہ کرے اور دعا میں جلد بازی نہ کرے؛ تو اس کی دعا قبول کی جاتی رہے گی)) عرض کیا گیا: یارسول اللہ! یہ جلد بازی کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((بندہ کہتا ہے: میں نے دعا کی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی؛ جس کی وجہ سے وہ ناامید ہوکر دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے)) (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا و الاستغفار، باب أنہ یستجاب للداعی مالم یعجل، رقم: ۲۷۳۵، ط:دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ شرعا جو چیز غلط ہو اس کے لیے دعا نہیں کرنا چاہیے، یوں ہی دعا میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے؛ کیوں کہ اس کی وجہ سے ناامیدی ہوگی اور حسرت و یاس کا دروازہ کھلے گا اور نتیجہ میں بندہ دعا ہی کرنا ترک کردے گا اور جب دعا کرنا ترک کردیا؛ تو دعا قبول ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا؛ لہذا معاملہ خواہ کتنا بڑا اور عظیم ہی کیوں نہ ہو، ایک بندہ مؤمن کو دعا میں ہمیشگی و دوام برتنا چاہیے اور اُکتاکر دعا کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، یہی طریقہ ایک مؤمن کے لیے کار آمد اور مفید ہے۔
(۴) آداب دعا میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کے اسماے حسنی اور اعلی صفات کے ذریعہ دعا کی جائے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
{وَ لِلہِ الْأَسْمَائُ الْحُسْنیٰ فَادْعُوْہُ بِھَا}(الأعراف:۷، آیت: ۱۸۰) ترجمہ: ((اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے پکارو)) (کنز الایمان)
حدیث شریف میں ہے کہ حضور رحمت عالم ﷺ نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا:
’’اللہم إنی أسألک بأنک أنت اللّٰہ  الذی لا إلہ إلا أنت، الأحد، الصمد،  لم یلد ولم یولد، ولم یکن لہ کفوا أحد‘‘  فقال النبی ﷺ : ((لقد سألت اللّٰہ باسمہ الأعظم الذی إذا سئل بہ أعطی، وإذا دعی بہ أجاب))
ترجمہ: حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا : ’’اَللّٰہُمَّ إنِّیْ أسْألُکَ بِأنَّکَ أنْتَ اللّٰہُ  الَّذِیْ لَا إِلہَ إِلَّا أَنتَ، الأَحَدُ، الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ، وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُوًا أحَد‘‘۔ ترجمہ:’’یا اللہ! میں تجھ سے اس وسیلہ سے مانگتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ایک ہے، کسی کا محتاج نہیں، جس کا نہ کوئی باپ ہے نہ کوئی اولاد ، اور نہ کوئی اس کے جوڑ کا ہے‘‘ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ((تم نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ مانگا ہے، جس کے ذریعہ جب اس سے مانگا جائے؛ تو عطا کرے اور جب اسے اس کے ذریعہ پکارا جائے؛تو دعا قبول ہو)) (المستدرک؍حاکم،ج۱ص۵۰۴، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
(۵) آداب دعا میں سے یہ بھی ہے کہ حضور آقاے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اولیاے کرام رضی اللہ عنہم کے وسیلہ سے دعا کرے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
{یٰا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللہَ وَ ابْتَغُوْا إِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} (المائدۃ:۵، آیت:۳۵) ترجمہ: ((اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ)) (کنز الایمان)
عن عثمان بن حنیف رضی اللّٰہ عنہ أن رجلاً أعمی أتی النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، فقال: إنی أصبت فی بصري فادع اللّٰہ لي، قال:
 ((اذہب فتوضأ وصل رکعتین، ثم قل: اللّٰہُمَّ إنی أسألک وأتوجہ إلیک بنبیِّی محمد نبيِّ الرحمۃ یا محمد إني أستشفع بک علی ربي في رد بصری، اللّٰہُمَّ فشفعِّنی فی نفسی وشفِّع نبیِّی فی رد بصری، وإن کانت حاجۃ فافعل مثل ذلک))
ترجمہ: عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی، آپ فرماتے ہیں: ایک نابینا شخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں نابینا ہوگیا ہوں، آپ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ مجھے بینا کردے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ((جاؤ وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھو، پھرکہو: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْألُکَ وَأَتَوَجَّہ إِلَیْکَ بِنَبِیِّی مُحَمَّد نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ، یا مُحَمَّد إِنِّي أَتَوَجَّہ بِکَ عَلیٰ رَبِّي فِی رَدِّ بَصَرِی، اَللّٰہُمَّ فَشَفِّعْنِی فِی نَفْسِی وَ شَفِّعْ نَبِیِّی فِی رَدِّ بَصرِی)) ترجمہ:((اے اللہ تعالیٰ میں تجھ سے طلب کرتاہوں، اس کے لیے میں اپنے نبی، رحمت والے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تیری بارگاہ میں وسیلہ بناتا ہوں، اے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی بینائی لوٹانے کے لیے اپنے رب تعالیٰ کے حضور شفیع بناتا ہوں، اے رب تعالی! تو میرے حق میں میری دعا قبول فرما، اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت میرے آنکھ کی بینائی لوٹانے میں قبول فرما)) (قاعدۃ فی التوسل؍ابن تیمیہ، ص۱۰۶، بحوالہ تاریخ ابن ابی خیثمہ)
(۶) آداب دعا میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دعا کرنے والے کا کھانا، پانی اور کپڑا سب حلال ہو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((أیھا الناس! إن اللہَ طیب لایقبل إلا طیبا، و إن اللہ أمر المؤمنین بما أمر بہ المرسلین، فقال: {یٰا أَیَّھُا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحا إِنِّی بَمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْم}(المؤمنون:۲۳، آیت:۵۱) وقال: {یٰا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ  طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُم} (البقرۃ:۲، آیت:۱۷۲) ثم ذکر الرجل یطیل السفر أشعث أغبر، یمد یدیہ إلی السمائ، یا رب، یارب! و مطعمہ حرام، ومشربہ حرام، و ملبسہ حرام، و غذی بالحرام، فأَنی یُستجاب لہ؟)) ترجمہ: ((اے لوگو! بے شک اللہ تعالی تمام نقائص سے پاک ہے، وہ صرف پاک چیز قبول کرتا ہے، بے شک اللہ تعالی نے جس کا رسولان عظام علیہم الصلاۃ و السلام کو حکم دیا اسی کا مؤمنین کو بھی حکم دیا، اللہ تعالی فرماتاہے:{یٰا أَیُّھَا الرُسُلُ کُلُوا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعمَلُوا صَالِحا إِنِّی بِمَا تَعمَلُونَ عَلِیم} ترجمہ:((اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں)) (کنز الایمان) اور رب تعالی فرماتا ہے:{یٰا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ  طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُم} ترجمہ:((اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں)) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کی وجہ سے گرد آلود ہونے کی حالت میں اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاکر کہتا ہے: یارب، یارب! اور حال یہ ہے کہ بڑا ہوا تو اس کا کھانا حرام، اس کا پانی حرام، اس کا کپڑا حرام اور بچپن میں اسے حرام کی غذا دی گئی؛ تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی؟!)) (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب، ج۲ص۷۰۳، رقم: ۱۰۱۵،ط:دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
آج ہم اگر قوم مسلم کا جائزہ لیں؛ عام طور سے عوام تو عوام بہت سارے خواص بھی حرام کھانے، پینے اور پہننے سے نہیں بچتے اور بچوں کو بھی اس حرام چیزوں سے نہیں بچاتے، اب ایسے لوگ اگر دعا کریں گے؛ تو دعا کیوں کر قبول ہوگی؟! اللہ تعالی کیوں کر ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا؟! لہذا اے مسلمانو! حرام کھانے، پینے اور پہننے سے بچو اور اپنی اولاد کو بھی حرام چیزوں سے بچاؤ تاکہ تمہاری کی گئی دعا تمہارے اور دوسرے مؤمن بھائیوں کے کام آئے، تم کامیابی و کامرانی کی منز ل کی طرف رواں دواوں رہو اور ایک دن منزل مقصود پر پہونچ کر کامیابی کا جھنڈا نصب کرسکو۔
(۷) آداب دعا میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ جو دعا کرے اس کے اول و آخر درود شریف بھی پڑھے؛ کیوں کہ اللہ جل شانہ درود پاک ضرور قبول فرماتا ہے اور جب رب کریم درود شریف قبول فرمائے گا؛ تو اس سے یہ امید ہے کہ درود شریف کے صدقہ میں دعا بھی قبول فرما لے گا، عابد و زاہد حضرت ابوسلیمان عبد الرحمن بن احمد عنسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب تم اللہ تعالی سے کوئی حاجت مانگو؛ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود شریف کے ذریعہ شروع کرو، پھر اپنی حاجت مانگو اور نبی اکرم صلی اللہ پر درود پڑھ کر اپنی دعا ختم کرو؛ کیوں کہ یہ دونو دعا یعنی درود شریف رد نہیں کیا جاتا اور اللہ تعالی سے یہ امید نہیں کہ دونوں طرف کی دعا قبول کرلے اور ان کے درمیان کی دعا کو چھوڑ دے‘‘ (حلیۃ الاولیاء؍ ابونعیم اصبھانی، ج۹ص۲۵۴، دار الکتاب العربی، بیروت)
ان کے علاوہ بھی دعا کے دوسرے آداب ہیں، جن کا تذکرہ تقریبا اختصار کے ساتھ ’شعب الایمان‘ میں موجود ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’دعا کے ارکان میں سے ہے کہ جو چیز مانگ رہا ہے، اس کے مانگنے میں کوئی حرج نہ ہو، مانگنے کا مقصد صحیح ہو، دعا کے وقت اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان ہو؛ کیوں کہ اس صورت میں اس کے دل میں دعا قبول ہونے کا غالب گمان ہوگا، اللہ تعالی کے اسماے حسنی اور صفات علیا کے ذریعہ دعا کرے، جو چیز مانگے، محنت و لگن سے مانگے، دعا اللہ تعالی کی فرض کی ہوئی چیز کو چھوڑنے کاباعث نہ بنے، دعا کے ذریعہ مانگنا اللہ تعالی کا امتحان لینے کے لیے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ہو، سوے ادب سے اپنی زبان کو محفوظ رکھے، یعنی ایسے الفاظ نہ استعمال کرے کہ اگر وہ اسے اپنے دوست وغیرہ کے لیے استعمال کرے؛ تو اس کے دوست وغیرہ اسے برا جانیں، دعا کے قبول ہونے میں جلد بازی نہ کرے اور دعا قبول ہونے میں جتنی تاخیر ہو اتنی ہی زیادہ برابر دعا کرتا رہے، جب حاجت بڑی ہو؛ تو اسے اللہ تعالی کے نزدیک بڑا سمجھ کر نہ مانگے بلکہ چھوٹی و بڑی ہر حاجت کو ایک ہی درجہ میں رکھ کر مانگے، دعا سے پہلے توبہ کرے، خوب زیادہ دعا کرے، خوشی و پریشانی ہر حال میں دعا کرنے کا التزام کرے، عزم مصمم کے ساتھ مانگے، تین مرتبہ دعا مانگے، ان کلمات کے ذریعہ دعا کرے جوجو دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے جامع ہیں، البتہ اگر کوئی خاص حاجت ہو؛ تو اس کا ذکر کردے، پاکی کی حالت میں دعا کرے، نماز کے بعد دعا کرے، دعا قبلہ کی طرف چہرا کرکے ہو، دعا کے وقت دونوں ہاتھ کندھے تک اٹھاے ہوئے ہو، پست آواز میں دعا ہو، جب دعا قبول ہوجائے؛ تو اللہ تعالی کی حمد و ثنا بجا لائے اور کوئی دن و رات دعا سے خالی نہ ہو‘‘ (شعب الایمان؍ بیہقی، ج۲ص۳۷۳، ط:مکتبۃ الرشد، ریاض)
نیز اوقات مثلا بدھ کے دن ظہر و عصر کے درمیان ، احوال مثلا روزہ کی افطار کے وقت اور جگہوں مثلا کعبہ شریف کے پاس دعا کرنے کا خوب خیال رکھے؛ کیوں کہ ان حالات میں دعا قبول ہونے کے امکانات عام حالات سے بہت زیادہ ہوتے ہیں، ان شائ اللہ ان کی تفصیل قارئین کرام زیر نظر کتاب میں ملاحظہ کریں گے۔
            کتاب کی اہمیت:
خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی یہ کتاب:’سہام الإصابۃ فی الدعوات المستجابۃ‘ موجودہ دور میں بہت ہی اہمیت کی حامل ہے؛ کیوں ایک طویل زمانہ سے اب تک فتنے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، عوام و خواص سب کے اندر خواہشات نفس کی اتباع بڑھتی جارہی ہے اور نت نئے شک و شبہات جنم لے رہے ہیں، ایسی حالت میں ہر وقت اللہ تعالی کی طرف لو لگانا، اسی سے مدد طلب کرنا اور اس کا ذکر کرنا، بہت ضروری ہوگیا ہے اور اس امر کے لیے مؤمن بندہ کو آداب دعا سے آگاہ ہونا ضروری تھا، اسی کے پیش نظر راقم الحروف نے اس کتاب کا ترجمہ کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر توفیق خداوندی نہ ملنے کی وجہ سے یہ کام مجھ سے نہ ہوسکا، پھر مرکز تربیت افتا، اوجھا گنج بستی، بانی فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے تعلیمی دوران ۲۰۱۶- ۲۰۱۷م جماعت رابعہ میں پڑھنے والے ایک ممتاز طالب علم مولوی حافظ سید رضاء المصطفی امجدی زید علمہ کی ترجمہ نگاری، فہم و فراست سے بہت متاثر ہوا، میں نے ان سے اس کتاب کو ترجمہ کرنے کے لیے کہا اور کچھ باتیں انہیں ترجمہ نگاری کے متعلق سمجھایا، انہوں نے بامحاورہ ترجمہ کیا اور خوب تر کیا، امید سے کہیں زیادہ اچھا ترجمہ پیش کیا، تصحیح کے وقت کہیں کہیں عربی عبارت پڑھنے کے بعد میں سوچ میں پڑجاتا کہ اس کا بہتر ترجمہ کیا ہوگا، وہاں موصوف کا بڑی خوش اسلوبی سے ترجمہ دیکھ کر دل خوشی سے جھوم جاتا، دل سے دعائیں نکلتیں، البتہ کہیں کہیں ترجمہ کرنے میں بعض غلطیاں بھی ہوئی ہیں، مگر اس کم عمر میں اور اس خوش اسلوبی کے ساتھ ترجمہ کرنے کے بعد یہ بعض غلطیاں بالکل دھندلی سی نظر آتی ہیں، مجھے امید قوی ہے کہ اگر موصوف نے آئندہ بھی باعمل ہو نے کے ساتھ ساتھ وقت کی حفاظت کی، ذہن و دماغ کا صحیح استعمال کیا اور لکھنے پڑھنے میں لگے رہے؛ تو ان شائ اللہ مستقبل میں ان کی حیثیت علما کے جھرمٹ میں ایک روشن و تابناک ستارے کے مانند ہوگی، اللہ رب العزت موصوف کو حفظ و امان میں رکھنے کے ساتھ، موصوف کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، مزید خلوص کے ساتھ پوری زندگی دین متین کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور ان کی طرح دوسرے طلبہ کو بھی باصلاحیت بن کر خدمات دین پیش کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔
میں نے ابتدا میں سوچا تھا کہ اس کتاب میں موجود احادیث کی تحقیق و تخریج نہیں کروں گا اور عربی کتاب کے محقق کی جو تخریج ہے، اسی کے ذکر کرنے پر اکتفا کروں گا، مگر دوران تصحیح کچھ احادیث کی تخریج پر نظر پڑی جن کی تخریج کے لیے اصل مرجع کی طرف رجوع نہیں کیا گیا تھا یا محقق کو نہیں ملی تھی؛ اس لیے میں نے اللہ تعالی کا نام لے کر اس کتاب کی احادیث کا ازسر نو تخریج کرنے کا ارادہ کیا اور بفضلہ تعالی تھوڑی بہت مشقت کے بعد یہ کام بھی پایہ تکمیل کو پہونچا، بہر حال ترجمہ و تصحیح کے بعد بھی اگر قارئین کرام کو کوئی غلطی نظر آئے؛ تو ضرور آگاہ کریں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کو درست کیا جاسکے۔
            ہدیہ تشکر:
نیز میں اپنے مشفق، کرم نواز، حضرت مولانا مفتی شہاب الدین نوری دام ظلہ، استاذ و مفتی: فیض الرسول، براؤں شریف، سدھارتھ نگر کا دل کی گہرائیوں سے شکر ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کوشش کو سراہا، اور اپنی مبارک تقریظ لکھ کر اس کتاب کی اہمیت و افادیت کو دوبالا کردیا، اللہ تعالی حضرت کی طرف سے کی گئی دعا ہم سب کے حق میں قبول فرمائے، آمین، نیز مکرم و محترم عالی جناب قاضی قمر الدین برکاتی، دھار، ایم پی اور حاجی محمد مقبول احمد، مظفر پور، بہار  قابل صد ستائش ہیں، جنہوں نے مالی تعاون پیش کرکے اس اہم کتاب کو منظر عام پر لانے کی اہم ذمہ داری نبھائی، رب قدیر اس پر خلوص عمل کے بدلے ان کو دارین میں سرخ روئی عطا فرمائے ، نیز اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ مزید انہیں اور دیگر اہل ثروت حضرات کو اسی طرح دینی کتابوں کی نشرواشاعت میں، جو دور حاضر کا اہم ترین تقاضا ہے، بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین۔
اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی موصوف مترجم کی اس پہلی خدمت کو عام و خاص کے درمیان مقبولیت عطا فرمائے، موصوف مترجم کی اس اہم کاوش، میری ادنی معاونت اور اس کتاب کی طباعت میں تعاون کرنےوالوں، سب کے والدین اور سب کے اہل خانہ کے لیے آخرت میں ذریعہ نجات بنائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

أفقر إلی اللّٰہ
ابو عاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر  شریف،قاہرہ،مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی ایف ایم فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۹؍جمادی الاولی ۳۷ھ ۱۹؍ فروری ۲۰۱۶ء

(تقدیم) 

Tuesday, August 27, 2019

آداب اختلاف فقہا

                                                                                                    مبسملا و حامدًا ومصلیاًومسلماً

فقہائے کرام اور مفتیان عظام کو آداب فتویٰ و مفتی کا پاس و لحاظ از حد ضروری ہے۔ بغیر ان کا پاس و لحاظ کیے فتوی دینے والے سے خطا کا امکان ،بلکہ خطا کا واقع ہونا یقینی ہے۔مفتی کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب نہ دے ۔اس ممانعت کی اہمیت حضرت عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قول سے واضح ہوجاتی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’جس نے ہر سوال پر فتویٰ جاری کیا، وہ مجنون ہے‘‘ ۔ مفتی ہی کے آداب میں سے ہے کہ وہ متقی و پرہیز گار ہو وغیرہ۔ ان آداب کی تفصیل کے لیے ابوالقاسم صیمری اور خطیب بغدادی رحمہما اللہ کی کتا بیں ،خصوصاً حافظ ا بن صلاح رحمہ اللہ کی کتاب ’’ادب المفتی و المستفتی‘‘ کامطالعہ کیا جائے۔
        دور حاضر میں ہم لوگ آداب اختلاف کو چھوڑ کرکسی حد تک دیگرتمام آداب کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں، مگر آدب اختلاف کا لحاظ تو دور کی بات ہے اس کے قریب بھی جانے سے کتراتے ہیں۔حالانکہ آداب اختلاف کا لحاظ بھی اتنا ہی اہم و ضروری ہے کہ جتنا دیگر آداب کا اہتمام لازم و ضروری ہے، لیکن پھر بھی ہم آداب اختلاف کو یکسر نظراندازکیے ہوئے ہیں، جس کے برے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ عیاں را چہ بیاں! میں اپنی اس تحریر میں آداب اختلاف فقہا کے کچھ عبرت آموز واقعات ذکر کروں گا، جو ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ ان واقعات کو التفات کامل کے ساتھ ،بنظر غائر و بنگاہ عبرت مطالعہ کریںاور اپنے لیے انہیں کے ذہن و فکر، انہیں کی وسعت ظرفی اور انہیں کی دریا دلی کو مقتدیٰ بنائیں۔
            (۱)امام ابو موسیٰ یونس بن عبد الاعلیٰ صدفی مصری رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ہیں، آپ فرماتے ہیں:
            ’’میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے زیادہ عقلمند شخص نہیں دیکھا۔ایک دن میں نے ان سے ایک مسئلہ میں مناظرہ کیا، پھر جدا ہونے کے بعد ہماری ملاقات ہوئی، امام شافعی رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا یہ صحیح نہیں کہ ہم بھائی بھائی ہی رہیں، اگرچہ ہمارا کسی مسئلہ میں اتفاق نہ ہو؟‘‘
            امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام شافعی رحمہ اللہ کی یہ بات ان کے کمال عقل اور فقہ نفس پر دلالت کرتی ہے، رہی بات مسائل میں اختلاف کی تو ایسا زمانے سے ہوتا آرہا ہے‘‘۔(سیر اعلام النبلا؍ امام ذہبی)
            اس واقعہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے:
            (الف) فقہائے کرام کے درمیان مسائل میں اختلاف ہوسکتا ہے (ب) مسائل میں اختلاف معتبر ہے (ت) مسائل میں اختلاف کی وجہ سے اخوت و بھائی چارگی ختم نہیں ہوتی ،بلکہ جیسے اختلاف سے پہلے تھی، ویسے ہی اختلاف کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔
            (۲) احمد بن حفص سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا:
            ’’إسحاق جیسی ذات پل عبور کرکے خراسان نہیں آئی، اگرچہ وہ بہت سارے مسائل میں ہمارے مخالف تھے، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیوں کہ بعض علما بعض کی مخالفت کرتے آرہے ہیں‘‘۔(سیر اعلام النبلا؍امام ذہبی)
            اس واقعہ سے مندرجہ ذیل چیزیں ظاہرہوئیں:
            (الف) ایک فقیہ کا دوسرے فقیہ سے ایک دو مسئلہ میں نہیں، بلکہ کئی کئی مسائل میں اختلاف ہوسکتا ہے (ب) ان مسائل میں اختلاف کے باوجو مخالف کی عزت و احترام اور تعریف و توصیف کو بالائے طاق نہیں رکھا جائے گا (ت) مسائل میں اختلاف کوئی تعجب کی بات نہیں، ایسا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے ہوتا آرہا ہے۔
            (۳)عباس بن عبد العظیم عنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس تھا، اس وقت امام علی بن مدینی رحمہ اللہ ایک جانور پر سوار ہوکر آئے، پھر دونوں حضرات شہادت کے بارے میں مناظرہ کرنے لگے۔مناظرہ کے دوران دونوں کی آوازیں اس قدر بلند ہوگئیں کہ مجھے ڈر لگنے لگا کہ کہیں اس بحث کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان بدسلوکی نہ پیدا ہوجائے، امام احمد رحمہ اللہ کی رائے یہ تھی کہ جو جنگ بدر اور صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے ،وہ بالیقیں جنت میں جائیں گے،اور اسی طرح سے وہ لوگ جن کے تعلق سے حدیث مرفوع وارد ہے، وہ بھی جنت میں داخل ہوںگے، اور امام علی رحمہ اللہ اس کے منکر تھے۔ بہرحال مناظرہ کے بعد جب امام علی رحمہ اللہ نے لوٹنے کا ارداہ کیا تو امام احمد رحمہ اللہ نے ان کے جانور کی زین کو تھام لیا۔(جامع بیان العلم؍امام ابن عبد البر)
            اس واقعہ سے یہ عبرت آموز باتیں ثابت ہوئیں:
(الف) کبھی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے مخالف کے سامنے آواز بلند ہوسکتی ہے (ب) مسائل میں اختلاف اور آواز بلند ہونے کی وجہ سے مدمقابل کے ساتھ تواضع و انکساری کا دامن نہیں چھوٹتا،خواہ متواضع کتنا بھی بڑا متقی و پرہیز گار، مدقق و محقق اور مفتی و امام ہی کیوں نہ ہو۔
            (۴) عبد العزیز دراوردی یا ابن ابی سلمہ رحمہما اللہ سے مروی، آپ فرماتے ہیں:
            ’’میں نے امام ابوحنیفہ اور مالک بن انس رحمہما اللہ کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں عشا کی نماز کے بعد اس حال میں دیکھا کہ دونوں باہم پڑھنے میں مشغول تھے، یہاں تک کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے قول پر توقف کرتا؛ تو دوسرا کسی سختی و عتاب، چہرہ کوغصہ سے متغیر اور(قائل کو) خطاکار قرار دئیے بغیر ٹھہر جاتا، پھر دونوں حضرات اسی مجلس میں ایک ساتھ نماز فجر پڑھتے‘‘۔ (فضائل ابی حنیفہ و اصحابہ؍ امام ابو القاسم بن ابی العوام)
            اس واقعہ سے مندرجہ ذیل چیزیں اخذ کی جاسکتی ہیں:
            (الف) اگر باہم مسائل میں گفتگو ہورہی ہے تو کسی کا کسی کے قول پر اعتراض کرنے یا اس کے قبول کرنے میں توقف کرنے کی وجہ سے مد مقابل کے چہرے پر غم و غصہ کا اظہاراور پیشانی پر شکن نہیں آنی چاہیے (ب) مسائل میںاختلاف، مخالفین کا آپس میں ایک جگہ اور ایک اسٹیج پر جمع ہونے سے مانع نہیں۔
            (۵) ابوشیخ حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’حکایت بیان کی جاتی ہے کہ امام اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ نے دباغت کے بعد مردار کی کھال کے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ سے مناظرہ کیا اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وہاں حاضر تھے تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مردار کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے، اس پر امام اسحاق رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: آپ کے اس قول پر کیا دلیل ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حدیث الزہری، عن عبید اللہ بن عبد اللہ بن عبد اللہ، عن ابن عباس، عن میمونۃ:أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال:((ہلا انتفعتم بإہابہا))
ترجمہ: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی: رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا: ((کیوں نہیں تم اس مردار کے چمڑے سے فائدہ اٹھاتے؟))
            اس کے بعد امام اسحاق رحمہ اللہ ان سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:
            حدیث ابن عکیم: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انتقال سے ایک ماہ پہلے ہماری جانب خط لکھ کر بھیجا:
            ((تم دباغت شدہ مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ)) ممکن ہے کہ یہ حدیث حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے لیے ناسخ ہو؛ کیوں کہ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے ایک مہینہ سے پہلے کی ہے۔
            امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ کتاب ہے اور وہ سماع؛ تو امام اسحاق رحمہ اللہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ و قیصر کی جانب خط لکھا، اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے درمیان حجت تھا، اس پر امام شافعی رحمہ اللہ خاموش ہوگئے‘‘۔
            جب امام احمد رحمہ اللہ نے یہ گفتگو سنی؛ تو آپ ابن عکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف رجوع کیے اور اسی کے مطابق فتویٰ دیااور امام اسحاق رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کی طرف رجوع کرلیے‘‘۔
            ابوالحسن تبریزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
            ’’امام خلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں بطور حکایت بیان کیا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے حدیث ابن عکیم رضی اللہ عنہ میں تزلزل کو دیکھ کر توقف فرمایا لیا تھا، اور بعض نے فرمایا: اپنے اس قول سے رجوع کرلیا تھا‘‘۔(کتاب الناسخ والمنسوخ؍ امام بدل بن ابی المعمر)
            اس واقعہ سے مندرجہ ذیل چیزیں ثابت ہوئیں:
            (الف) مفتی و عالم بڑا ہو یا چھوٹا ،ضرورت پڑنے پر طلب حق کے لیے اس سے دلیل کا طلب کرنا معیوب نہیں (ب) اگر دلیل نہ ہو تو حق کوقبول کرلینا ائمہ کرام کی شان ہے، ہمیں انہیں کی اقتدا کرنی چاہیے۔
            (۶) ’’ایک مرتبہ عمرو بن عبید معتزلی (۸۰؁ھ-۱۴۴؁ھ-۶۹۹؁ء-۷۶۱؁ء)نے کسی مسئلہ میں اپنی رائے پیش کی ،جس میں اس سے خطا واقع ہوگئی تو واصل بن عطا معتزلی (۸۰؁ھ-۱۳۱؁ھ-۷۰۰؁ء-۷۴۸؁ء)نے اس سے اس مسئلہ میں اس طور سے مناقشہ کیا کہ عمرو بن عبید کو مسئلہ مذکورہ کے متعلق اپنی رائے میں خاطی ہونا واضح ہوگیاتو یہ حق کی طرف یہ کہتے ہوئے پلٹا: میرے درمیان اور حق کے درمیان کوئی عداوت نہیں‘‘۔(المنیۃ و العمل؍ ابن المرتضی)
            اس عبرت آموز واقعہ سے مندرجہ ذیل چیزیں ثابت ہوتی ہیں:
(الف) اگر کسی مخالف کا خاطی ہونا واضح ہوتو اس کی ہتک عزت کی بجائے اس سے اس طور سے گفتگو کرے کہ اس پر حق واضح ہوجائے (ب) حق واضح ہوجائے تو بلا لومۃ لائم حق کو قبول کرلے اور خواہش نفسانی کو جگہ دیتے ہوئے حق سے روگردانی کرکے حق سے عداوت نہ کر ے ۔
            (۷) عبید اللہ بن حسن عنبری بصری معتزلی (۱۰۵؁ھ-۱۶۸؁ھ)کے شاگرد عبد الرحمن بن مہدی نے کہا:
            ’’ایک مرتبہ ہم لوگ ایک جنازہ میں تھے ،اس وقت میں نے اس سے ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھا ،جس میں اس سے غلطی ہوگئی، میں نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے، اس مسئلہ کا حکم اس طرح ہے، وہ کچھ دیر تک سر جھکائے رہا ،پھر سر اٹھایا اورکہا: جب تو میں اپنے قول سے رجوع کرتا ہوں۔ اس حال میںکہ میں بے قدر و چھوٹا ہوں، مجھے حق کے ساتھ کمتر رہنا باطل کے ساتھ بلند رہنے سے بدرجہا پسندیدہ ہے‘‘۔ (تھذیب التھذیب ؍ امام ابن حجر عسقلانی،ج ۲۲ص۴۸۳)
            اس واقعہ سے مندرجہ ذیل چیزیں ثابت ہوئیں:
            (الف) شاگرد اپنے استاذ کو اس کی خطا پرآگاہ کرسکتا ہے۔ شاگرد عموماً چھوٹا ہی ہوتا ہے، اس سے پتہ چلا کہ بڑا اگر شریعت سے منحرف ہو؛ تو چھوٹا بھی بڑے کو شریعت کے صحیح حکم کی جانب اس کی توجہ دلاسکتا ہے،بلکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے (ب) شاگرد اگر استاذ یا کوئی چھوٹا کسی بڑے کو کسی شرعی حکم کی اطلاع دے یااس کی خطا کی جانب توجہ دلائے تو واضح ہونے پر استاذ یا بڑے کو بلا چوں و چرا قبو ل کرنا لازم ہے، کیونکہ باطل میں پڑے رہنا عقلمندی نہیں۔
            میں نے ائمہ کرام وسابقین کے ان واقعات کو ذکر کرنے میںکتاب ’’نماذج من رسائل الأئمۃ السلف و ادبھم العلمی‘‘ازرئیس القلم عبد الفتاح ابوغدہ سے استفادہ کیاہے۔
            یہ ہے فروعی مسائل میں ہمارے فقہائے سابقین کے آداب اختلاف کی ایک جھلک! لیکن آج فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے ہم میں سے بہت سے لوگوں کا کیا حال ہے؟ مخالف پرطعن وتشنیع کرنا، اس کا مجمع عام میں استہزا کرنا، اس کا مذہب اہل سنت سے ہونے کو مشکوک بتانا،اس کے اسلام و ایمان پر سوالیہ نشان قائم کرنا،بلکہ اس کا خاتمہ بالخیر نہ ہونے کاقول کرنا! آج وہابی، دیوبندی ،نیچری وغیرہ کو چھوڑ کر سارازورقلم وقوت گویائی اپنی سنی جماعت کے خلاف صرف کرنا، دیوبندیت و وہابیت گاؤں در گاؤں بڑھتی جارہی ہے اس کے علاج کے لیے خاطر خواہ اقدام نہ کرنا،قائل کے موجود ہوتے ہوئے قائل کی طرف رجوع کیے بغیر فتویٰ صادر کرنا! ہماری حالت عجیب و غریب ہوچکی ہے، اگر یہی حالت رہی تو اہل سنت و جماعت کا اللہ تعالیٰ ہی محافظ ہے۔
            کیا ہم فروعی مسائل میں اختلاف کے باوجود نقطہ اسلام و اہل سنت وجماعت پر متحد نہیں ہوسکتے؟ کیا نفس کی بجائے ہم شریعت مطہرہ کو اپنا مقتدیٰ نہیں بناسکتے؟کیا کسی کی طرف اپنا ہو یا غیر، یکساں منسوب شدہ بات کے لیے ثبوت شرعی کو دلیل نہیں بناسکتے؟ کیا ہم اہل سنت و جماعت آپس میں اپنے و غیر کی تفریق کا دامن نہیں چھوڑسکتے؟ کیا ہم واٹس ایپ، فیس بک، اخبار، آڈیو، ویڈیو وغیرہ پر بھروسہ کرکے فیصلہ کرنا نہیں چھوڑسکتے؟کیا ہم کچھ ایسے افراد تیار نہیں کرسکتے جو معاملہ کی تحقیق کریں، اس کے بعد معاملہ کے متعلق حکم جاری کریں؟ کیا ہم حقوق العباد میں محتاط نہیں ہوسکتے؟ کیا ہم عیب جوئی و تجسس جیسے مہلک مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے؟ کیا ہم مسائل فرعیہ میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ذلیل کرناترک نہیںکرسکتے؟کیا ہمارا شریعت پر عمل کرنے کا دعویٰ ظاہر و باطن میں یکساں نہیں ہوسکتا؟ کیا ہم عوام کو اختلاف و انتشار کی تاریکی دینے کی بجائے اتحاد و اتفاق کی روشنی نہیں دے سکتے؟اگر ہم آنے والے صرف اسی ایک فرمان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم پر عمل کرلیں تو یقینا ہم یہ سب باآسانی یا تھوڑی سی جد وجہد کے ساتھ کرسکتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:((من حسن إسلام المرء ترکہ مالایعنیہ))ترجمہ:((اسلام کی عمدگی سے ہے کہ انسان فضول باتوں کو چھوڑدے)) (حدیث حسن ؍سنن الترمذی وغیرہ)

میں  نے  مانا  میری  آواز نہیں جائے گی            دور  دیوار  سے ٹکراکے  پلٹ  آئے  گی
اب بھی موقع ہے اندھیروں کا کرو کوئی علا ج        ورنہ  یہ نسل  اجالوں کو  ترس  جائے گی


طالب عا
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۲۰۱۶ء

(تقدیم سالنامہ مرکز تربیت افتا، اوجھاگنج، بستی) 

Featured Post

  مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما             یار غار امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات محتاج تعارف نہیں، حضور ...

Popular Posts